Breaking

Post Top Ad

Tuesday, October 22, 2019

جنت کی بھی خدا سے تمنا نہ کرسکے

جنت کی بھی خدا سے تمنا نہ کرسکے
اپنی انا کو ہم کبھی رسوا نہ کرسکے
نادم ہمارے قتل پہ ہمسایہ جب ہوا
پھر اس کے بعد خون کا دعویٰ نہ کرسکے
اک وہ کہ جن کی ہوگئی پوری ہر آرزو
اک ہم کہ ان سے کوئی تمنا نہ کر سکے
کتنے عظیم لوگ تھے جو مٹ گئے مگر
دنیا سے اپنے دین کا سودا نہ کرسکے
کچھ خونِ دل بھی چاہئے جینے کے واسطے
ہم صرف آنسوؤں پہ گزارا نہ کر سکے
درد و الم تو سارے تبسمؔ کے ہو گئے
ہم اپنے نام صرف زمانہ نہ کرسکے 

ڈاکٹرتبسم فرحانہ 
RoadNo:7,NewKarimgang
Gaya(Bihar)

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Pages