Breaking

Post Top Ad

Tuesday, October 22, 2019

جس نے لکھا ہے ٹوٹتی قدروں کا مرثیہ

جس نے لکھا ہے ٹوٹتی قدروں کا مرثیہ
وہ مل گیا کبھی تو کہوں گا کہ شکریہ
بے سمت ہورہے ہیں یہ احساس ہے مگر
جاتے ہیں اس سڑک پہ کئی لوگ شوقیہ
ہرایک کے عیوب بیاں کررہا تھا وہ
آیا جب اس کا نام ہوا تنگ قافیہ
مدت ہوئی رگوں میں لہو کو جمے ہویے
کیسے کہوں کہ فکر کا بدلے گا زاویہ
برسوں کے بعد ہم سے مخاطب ہوا ہے وہ
خدمات اپنی اب وہ گنایے گا شرطیہ
امیدؔجس کی بات سے ہم متفق نہیں
یہ کیا ضرور نام بھی لیں اس کا طنزیہ


ڈاکٹرعلی عباس امید
Doctor'sColony.EidgahHills
Bhopal-462001(M.P)

No comments:

Post a Comment

Post Top Ad

Pages